28 اکتوبر 2010 - 20:30

جمعیت علمائے اسلام کے سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ متحدہ مجلس عمل کی بحالی میں جماعت اسلامی کے امیر رکاوٹ ہیں، جنہوں نے امارت سنبھالنے کے بعد فضل الرحمن کی کردار کشی کو اپنا نصب العین بنایا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام کے سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ متحدہ مجلس عمل کی بحالی میں جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، جنہوں نے جماعت کی امارت سنبھالنے کے بعد جمعیت علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن کی کردار کشی کو اپنا نصب العین بنایا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کراچی ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا عبدالکریم عابد، قاری نصیر الدین سواتی اور دیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ منور حسن اپنے رویے پر نظر ثانی کریں۔ مولانا فضل الرحمن پر بھارت کی گود میں بیٹھنے کا الزام انتہائی قابل مذمت اور افسوسناک ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر کو ایسی گفتگو زیب نہیں دیتی ہے۔ ایم ایم اے کی بحالی میں جماعت اسلامی کا یہی رویہ رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ پاک امریکا اسٹریٹجک مذاکرات کے بعد ڈرون حملوں میں اضافہ ہوا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان مذاکرات میں ڈرون حملوں کا معاملہ نہیں اٹھایا گیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا حالیہ دورہ انتہائی ناکام رہا ہے۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف کو چاہئے کہ وہ ڈرون حملوں کو پاکستان کی خود مختاری اور سلامتی پر حملہ قرار دیتے ہوئے فوج کو حکم دیں کہ وہ ان کے خلاف جوابی کارروائی کرے۔

.........

/110